Press "Enter" to skip to content

Posts published in January 2019

بالی وڈ اداکار قادر خان مداحوں سے بچھڑ گئے

کینیڈا: بالی وڈ کے نامور اداکار قادر خان شدید علالت کے بعد کینیڈا میں انتقال کرگئے۔

اکیاسی سالہ قادر خان دماغی مرض سپرا نیوکلیئر پالسی  میں مبتلا اور کافی دنوں سے کینیڈا کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔

گزشتہ رات اداکار کی حالت تشویش ناک ہوئی، جس کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا، تاہم صبح سانس اکھڑنے کے باعث وہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔

قادر خان 22 اکتوبر 1937ء کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق مشہور پشتون قبیلے کاکڑ سے تھا۔

انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1973ء میں ریلیز ہونے والی فلم ‘داغ’ سے کیا اور جلد ہی فلم نگری میں اپنے قدم جمالیے۔

انہوں نے 300 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے کے ساتھ ساتھ ڈھائی سو فلموں کے مکالمے بھی لکھے۔

قادر خان نے  مقبول فلم ’مقدر کا سکندر‘ میں اداکار امیتابھ بچن کا نام سکندر رکھا تھا جبکہ انہوں نے مشہور فلمیں ’قلی‘، ’امر اکبر انتھونی‘ اور ’شرابی‘  کے مکالمے بھی لکھے، جو یادگار ہیں۔

ان کی مشہور فلموں میں ’مقصد‘، ’نیا قدم‘، ’آنکھیں‘ ، ’جڑواں‘ اور’میں کھلاڑی تو اناڑی‘ شامل ہیں۔

انہوں نے متعدد بار فلموں میں مزاحیہ کردار ادا کیا لیکن فلم ‘باپ 1 نمبری بیٹا دس نمبری’ پر انھیں بہترین کامیڈین کے فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

امجد خان کے ساتھ انہوں نے کئی مرتبہ منفی یعنی ولن کے کردار بھی ادا کیے۔

قادر خان کے بچھڑنے پر مداحوں سمیت بالی وڈ کی نامور شخصیات کی جانب سے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے اور تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

Please follow and like us:

پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیداد: ایف بی آر، ایف آئی اے سے 14 جنوری تک رپورٹ طلب

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور جائیداد کیس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف ائی اے) سے 14 جنوری تک رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ بینچ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کے معاملے کی سماعت کی۔

واضح رہے کہ 13 دسمبر کو ہونے والی گذشتہ سماعت پر عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو ایک ہفتے میں ادائیگی کا حکم دیا تھا۔

آج سماعت کے آغاز پر ایف بی آر حکام کی جانب سے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم کی بہن علیمہ خان نے 29.4 ملین روپے جمع نہیں کرائے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا، ‘ہم نے علیمہ خان کو کتنا وقت دیا تھا؟ ‘

جس پر ممبر ٹیکس ایف بی آر نے بتایا کہ ‘علیمہ خان 13 جنوری تک پیسے جمع کروا سکتی ہیں’۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ‘ایف ائی اے نے ماہانہ رپورٹ فائل کرنا تھی، 21 ماڈل کیسز پر کیا پیش رفت ہوئی؟’

جس پر ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ‘تمام کیسز پر کارروائی کر رہے ہیں، 13 دسمبر کے بعد 167 ملین ادا کر دیئے گئے جبکہ 140 ملین مختلف لوگوں نے ادا کرنے ہیں’۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘تاثر دیا گیا تھا کہ دبئی جائیدادوں پر 3 ہزار ارب روپے مل سکتے ہیں’۔

جس پر ایف بی آر چیئرمین نے بتایا کہ ‘دبئی جائیدادوں پر ملک بھر میں دفاتر قائم کر دیئے گئے ہیں اور 775 لوگوں نے دبئی کی جائیدادوں کے بارے میں بیان حلفی دے دئیے ہیں’۔

چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ ’60 کیسز ایسے ہیں جن میں جائیدادیں زیادہ ہیں، ان کیسز سے زیادہ ریونیو ملنے کا امکان ہے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر دیکھیں گے’۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’13 جنوری کو عدالت کو مفصل رپورٹ جمع کروائیں گے’۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ‘یہ کام جتنا جلدی ہوگا، ملک مستحکم ہوگا’۔

ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ ‘ایف بی آر جس اسپیڈ سے کام کر رہا ہے، یہ کام کب تک مکمل ہوگا؟’

ایف بی آر چیئرمین نے بتایا کہ ‘انشاء اللہ ایف بی آر متحرک انداز سے ان کیسز کو چلائے گا’۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘ہم ایف بی آر پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں، خدا کا واسطہ ہے ملک کا پیسہ خزانے میں لانے میں کردار ادا کریں’۔

اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے 14 جنوری کو ایف بی آر اور ایف آئی اے سے دبئی جائیدادوں پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

Please follow and like us:

ایل او سی پر فائرنگ: بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی

اسلام آباد: لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے خاتون کی شہادت پر قائم مقام بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔

گزشتہ روز بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے شاہ کوٹ سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون شہید جب کہ دو بچوں سمیت 9 شہری زخمی ہوئے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی فوج کی جارحیت پر قائم مقام بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق قائم مقام بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو ڈی جی ساؤتھ ایشیا و سارک نے طلب کیا جہاں احتجاجی مراسلہ بھی ان کے حوالے کیا گیا۔

Please follow and like us:

معروف مبلغ مولانا طارق جمیل کو دل کی تکلیف، اسپتال منتقل

لاہور: معروف مبلغ مولانا طارق جمیل کو ناسازیٔ طبع کی بنا پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے، بتایا جارہا ہے کہ انہیں عارضہ قلب کی شکایت درپیش ہے۔

تفصیلات کے مطابق مولانا طارق جمیل کو دل میں تکلیف کے سبب طبی امدارد کے لیے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹرز ان کی نگہداشت میں مصروف ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طارق جمیل کی حالت اب خطرے سے باہر ہے تاہم ممکنہ طور پر ڈاکٹرز ان کی انجیوگرافی کریں گے او ر اس کے بعد آگے مزید طبی علاج کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ خیال رہے کہ انجیو گرافی کے ذریعے دل اور اس کی مرکزی شریانوں میں خرابی کی نوعیت کی جانچ کی جاتی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ مولانا طارق جمیل تبلیغ سے متعلق اپنی مصروفیات کے سلسلے میں گزشتہ کچھ دنوں سے کینیڈا میں تھے اور گزشتہ رات ہی وطن واپس پہنچے تھے۔

طارق جمیل اپنے اندازِ بیان کے باعث مشہور ہیں۔ انہوں نے تبلیغی جماعت کے ساتھ 6 براعظموں کا سفر کیا ہے۔ انٹرنیٹ کے اس دور میں آن لائن ان کے بیانات سننے والوں اور ان سے عقیدت رکھنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

Please follow and like us:

زلزلہ متاثرین کی امداد نہ ہوئی تو میں بھی ساتھ ملکر احتجاج کروں گا، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 2005 کے زلزلہ متاثرین کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر ڈیم نہ بنا اور ان لوگوں کی امداد نہ ہوئی تو وہ بھی متاثرین کے ساتھ مل کر احتجاج کریں گے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ بینچ نے زلزلہ متاثرین فنڈ کرپشن کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے متاثرین کی امداد کے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایک سانحہ گزر گیا، کٹے پھٹے لوگوں کی مدد کے لیے دنیا اٹھ کھڑی ہوئی، امداد کے لیے آنے والی رقم حکومت کے پاس امانت تھی، لیکن نہ تو کوئی اسکول کھلا، نہ اسپتال بن سکا اور نہ نیا بالاکوٹ بنا۔ لوگ آج بھی خیموں اور ٹین کے گھروں میں بدترین حالات میں جی رہے ہیں’۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’25 اپریل کو ہم نے دورہ کیا اور رپورٹ وزیراعظم کو بھیجی آج تک اس پر کیا عمل ہوا؟ ہم چار گھنٹے کے نوٹس پر بالا کوٹ جا سکتے ہیں تو وزیراعظم کیوں نہیں؟’

جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ‘ایک ہفتے کی مہلت دیں پھر آپ کو رپورٹ دیں گے’۔

تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ ‘اب ایک ہفتہ نہیں ملے گا’۔

ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘ایک بات بتا دوں اگر ڈیم نہ بنا اور ان لوگوں کی امداد نہ ہوئی تو میں بھی ان لوگوں کے ساتھ مل کر احتجاج کروں گا’۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ‘اس عدالت کی کہی دوسری باتوں پر عمل نہ ہوا تو میں بھی جا کر بیٹھ جاؤں گا’۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا سے استفسار کیا کہ ‘آپ نے زمینوں کے مسائل حل کیے؟’

جس پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے جواب دیا کہ ‘جی زمینوں کے مسائل حل کر دیئے ہیں’۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل انور منصور خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘ایک کام انتظامیہ کے کرنے کا ہے اور وہ نہیں کرتی اور ہمارے نوٹس لینے پر ہر کام ہو جاتا ہے تو کیا ہم جوڈیشل ایکٹیوزم کر رہے ہیں؟ پھر کہا جاتا ہے کہ میں جوڈیشل ایکٹیوسٹ ہوں’۔

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ‘نہیں سر یہ بالکل جوڈیشل ایکٹیوزم نہیں ہے’۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ‘جماعۃ الدعوۃ نے وہاں ایکسرے مشین لگائی ہے، جماعت اسلامی نے بھی وہاں کام کیا ہے، کام نہیں کیا تو حکومت نے نہیں کیا، سرکار نے کچھ نہیں کیا’۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ‘وزیراعظم کو غالباً اس معاملے کا پتہ نہیں’۔

تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘کمال ہے جس صوبے نے سب سے زیادہ محبت دی، اس کے مسائل کا وزیراعظم کو پتہ ہی نہیں’۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘وزیراعظم کی اس طرف توجہ دلائیں، ہم تو اس علاقے کے لوگوں کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں’۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’11 سال سے ایرا نے کچھ نہیں کیا’۔

ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے پیر (14 جنوری)  کو این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دینے کا حکم دیا۔

عدالت نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت 10 دن میں اس حوالے سے رپورٹ پیش کرے کہ زلزلہ زدگان کے فنڈز سے کتنے پراجیکٹ مکمل کیے گئے اور یہ فنڈز ملتان میٹرو اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر کیوں خرچ ہوئے۔

بعدازاں کیس کی سماعت پیر (14 جنوری) تک ملتوی کری گئی۔

Please follow and like us:

غربت، جہالت، نا انصافی اور کرپشن کیخلاف جہاد نئے سال کے عزائم ہیں: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے نئے سال کے موقع پر غربت، جہالت، ناانصافی اور کرپشن جیسی چار برائیوں کے خلاف جہاد کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے لکھا، ‘ ہمارے نئے سال کا عزم ملک کی چار برائیوں غربت، جہالت، ناانصافی اور کرپشن کے خلاف جہاد ہے۔’

ساتھ ہی وزیراعظم نے امید کا اظہار کیا کہ ‘انشاء اللہ سال 2019 پاکستان میں سنہرے دور کا آغاز ہوگا’۔

عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے سے قبل اور بعد میں بھی متعدد مرتبہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے کئی بیانات دیئے ہیں، حال ہی میں انہوں نے منی لانڈرنگ کے خلاف ملکی تاریخ کے سب سے بڑے آپریشن کا بھی اعلان کیا۔

اٹھائیس دسمبر کو وزیراعظم آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ ‘امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق پاکستان سے سالانہ 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہو رہی ہے، ہم منی لانڈرنگ کے خلاف ملکی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن کرنے جارہے ہیں’۔

اس موقع پر وزیراعظم نے مزید بتایا کہ ‘ہم غربت کے خاتمے کے لیے بھی ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام لارہے ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے جامع پروگرام کا اعلان کیا جائے گا’۔

Please follow and like us: