Press "Enter" to skip to content

گورنر پنجاب چوہدری سرور کی پارٹی سے ناراضگی کی وجہ سامنے آ گئی

لاہور (08 دسمبر2018ء) معروف صحافی حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ آنے والے کچھ دنوں میں حکومت کابینہ میں ردِ عمل کا سوچ رہی ہے۔کچھ وزراء کے محکمے بھی تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔جب کہ پنجاب کے ایک دو وزراء کو پروموٹ کیا جا سکتا ہے کیونکہ کچھ لوگ تو صرف باتیں ہی کر سکتے ہیں جب کہ جو لوگ کام کر رہے ہیں ان کو پروموٹ کیا جا سکتا ہے۔
جب کہ وفاقی کابینہ میں تین وزراء کے محکمے تبدیل ہو سکتے ہیں جب کہ وفاقی سطح پر دو وزراء کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جن میں ولید اقبال اور صداقت علی عباسی شامل ہیں۔حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کی تو شکایتیں بھی ختم نہیں ہوتی وہ ہر وقت اس بات پر ناراض رہتے ہیں کہ میرا وہ وہ کام نہیں کیا گیا۔گورنر پنجاب یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کے پاس کون بیٹھا ہوا ہے۔

حال ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے اختیارات استعمال کر کے کچھ افسران کا تبادلہ کیا تو اس پر چوہدری سرور ناراض ہو گئے کہ مجھے سے پوچھ کر نہیں کیا گیا۔جب اس نوٹیفیکشن کی کاپی گورنر ہاؤس بھجوائی گئی تو وہ ناراض ہو گئے کہ مجھے تو بتایا ہی نہیں گیا کہ اس طرح سے افسران کا تبادلہ ہو رہا ہے حالانکہ یہ گورنر پنجاب کے اختیارات میں ہی نہیں آتا۔
اصل میں گورنر پنجاب چاہتے ہیں کہ انہیں صاف پانی کا پراجیکٹ دیا جائے۔حالانکہ بطور گورنر وہ اس پراجیکٹ کو نہیں لے سکتے ان کی آئینی مجبوریاں ہیں۔خیال رہے گورنر ہاؤس لاہور کی دیواریں وزیراعظم عمران خان کے حکم پر گرا نے کا حکم دیا گیا تھا۔بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان توگورنر ہاؤس خالی کروانا چاہتے تھے کیونکہ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا لیکن عثمان بزدار نےعمران خان کو گورنر ہاؤس خالی نہ کروانے پر راضی کر لیا تھا۔ جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کے کہنے پر صرف گورنر ہاؤس لاہور کی دیواریں گرانے کا حکم دیا۔اور اس کے بعد چوہدری سرور عثمان بزدار کا تھینک یو کہنے بھی گئے تھے کہ آپ کی وجہ سے میں در بدر ہونے سے بچ گیا۔

Please follow and like us:

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *