Press "Enter" to skip to content

پولیو کے قطرے پینے سے 3 سالہ بچی جاں بحق ہو گئی

لاہور (13دسمبر 2018ء) میاں چنوں میں پولیو کے قطرے پینے سے ایک بچی جاں بحق ہو گئی۔میڈیا رپورٹس
میں بتایا گیا ہے کہ میاں چنوں کے نواحی گاؤں 105 پندرہ ایل کے رہائششی محمد عرفان کی تین روز کی بچی کو پولیو ٹیم نے قطرے پلائے لیکن قطرے پیتے ہی بچی کی حالت غیر ہو گئی۔جس کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی۔
دوسری جانب ہیلاں کے رہائشی عثمان حنیف کے گھر پولیو ٹیم بچے کو پولیو کے قطرے پلانے پہنچی تو عثمان حنیف نے بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے صاف انکار کر دیا۔پولیو ٹیم نے بچے کے والد کو قائل کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے اپنے بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا۔پولیس نے سنٹری انسپکٹر کی مدعیت میں بچے کے والد کے خلاف کار سرکار میں مداخلت پر مقدمہ درج کر لیا۔

جب کہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاں دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک پولیو وائرس اور مرض سے جان چھڑوا چکے ہیں، وہیں پاکستان کئی ترقی پذیر اور غریب ممالک سے معاشی طور پر بہتر حالت میں ہونے کے باوجود اس خطرناک مرض اور وائرس کا خاتمہ نہیں کر سکا۔ پاکستان میں پھر سے پولیو کا وائرس خطرناک حد تک پھیل گیا ہے۔ کراچی، لاہور سمیت ملک کے 7 بڑے شہروں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
فوکل پرسن بر ائے انسداد پولیو بابر عطاء نے کہاکہ پاکستان پولیو پروگرام نے گٹر میں پولیو وائرس کے نمونوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ تفصیلات والدین کی آگاہی کے لیے جاری کی جارہی ہیں۔ ملک کے 7 بڑے شہروں کے گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ۔ جمعہ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی، سکھر، لاہور، راولپنڈی، مردان،پشاور اور اسلام آباد میں گٹر کے پانی میں وائرس پایا گیا ہے۔
اسی انسداد پولیو پروگرام 10 سے 13 دسمبر کو شروع ہونے والی پولیو مہم میں اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گٹر کے پانی میں وائرس کی تصدیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بچوں کی بڑی تعداد پولیو قطروں سے محروم ہے۔ والدین کو اس مرض کی سنگینی کا احساس کرنا ہوگا اور اپنے بچوں کو لازمی پولیو کے قطرے پلوانا ہوں گے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے پاکستان کو پولیوسے پاک کرنے کیلئے سخت قانون سازی کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ملک میں پولیو کے قطرے نہ پلوانے کے عمل کو قابل جرم قرار دیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

Please follow and like us:

Comments are closed.