Press "Enter" to skip to content

نیازی اور نیب کا غیرمقدس الائنس ہے، شہبازشریف

لاہور(11 دسمبر 2018ء) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ نیازی اور نیب کا غیرمقدس الائنس ہے، حمزہ شہبازکے معاملے پرزیادتی ہوئی، ملک میں سویلین ڈکٹیٹرشپ ہے، مالم جبہ کیس میں ابھی تک کسی کوہاتھ نہیں لگایا گیا، چنیوٹ آئرن کا خزانہ پرویز مشرف کے دور میں لٹایا گیا۔ انہوں نے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہبازکے معاملے پر زیادتی ہوئی ہے۔
ملک میں سویلین ڈکٹیٹرشپ ہے۔ حکومت کی سفاکیت کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے مشاورتی اجلاس میں ایوان میں متفقہ حکمت عملی اپنانے سے متعلق لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ ایوان کا وقت ضائع ہونے سے بچائیں گے اور اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیازی اور نیب کا غیرمقدس الائنس ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو سے متعلق بتایا گیا جب کمپنی بنی توان کی عمرایک سال تھی۔ چنیوٹ آئرن کا خزانہ پرویز مشرف کے دور میں لٹایا گیا۔ دریں اثناں خواجہ بردران کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ ن اور اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ جس میں آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق غور کیا گیا۔اس موقع پر رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کی ایوان میں حاضری کو یقینی بنانے کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی کو درخواست بھی جمع کروادی گئی۔
درخواست میں خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرجاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کوخواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرکیلئے درخواست ن لیگی رہنماؤں شیزافاطمہ اور مائزہ حمید نے جمع کروائی۔ واضح رہے قومی احتساب بیورو (نیب )نے پیراگون ہائوسنگ اسکینڈل میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو ضمانت مسترد ہونے پر لاہور ہائیکورٹ سے حراست میں لے لیا جبکہ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج ہمارے صبر کا امتحان ہے، گرفتاری کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کرنی، صبر کا پیمانہ ہاتھ سے نہ چھوڑیں، فیصلے کروانے والے عوام کی آواز کو سن لیں،ہمارا دامن صاف ہے۔
ہاؤسنگ سکیم کا مالک ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نیب نے کوئی دستاویزات پیش نہیں کیں، عدالتوں کا احترام کرتے رہیں گے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں رکنی بینچ نے سابق وزیر ریلوے سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست پر سماعت کی۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق عدالت میں پیش ہوئے ۔
دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ نیب قانون کے مطابق خواجہ برادران کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، خواجہ برادران کا پیراگون سے بالکل تعلق ہے۔ خواجہ سعد رفیق کی اہلیہ نے قیصر امین بٹ سے ملکر پیراگون ہاؤسنگ سٹی میں پارٹنر شپ کی، پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی سے خواجہ برادران کو بھی پیسے آتے رہے، خواجہ برادران نے مانا ہے کہ انہوں نے کروڑوں روپے کمیشن کے طور پر لیے۔
نیب کے وکیل نے بتایا کہ خواجہ سعد رفیق کے بہنوئی بھی اس معاملے میں پارٹنر ہیں۔ اگر کوئی رقم چوری اور ڈکیتی سے حاصل کی جائے اور ٹیکس ریٹرن میں اسکا ذکر کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ رقم درست ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہد بٹ نے نیب کو بیان دیا کہ خواجہ سعد رفیق ہر اجلاس میں آتے تھے اور الاٹمنٹ لیٹر لوگوں کو جاری کرتے تھے، خواجہ برداران کے خلاف تب انکوائری شروع ہوئی جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔
نیب کے وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ چیئرمین نیب جج رہ چکے ہیں ان کی کسی کے ساتھ نہ دشمنی ہے نہ دوستی، وہ قانون کے مطابق کام کرتے ہیں اور انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی ضمانت خارج ہونی چاہیے۔ خواجہ برادران کے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ امجد پرویز نے دلائل دیئے اور کہا کہ نیب کی جانب سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔پیراگون ہاؤسنگ کیس کے ایک ملزم کو گرفتار کرکے 164کا بیان ریکارڈ کروایا گیا ہے جبکہ بیان کی کاپی بھی نہیں دی جا رہی۔
جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شواہد کی نقل تو آپ کو نہیں دی جاسکتی۔سماعت کے بعد عدالت عالیہ نے خواجہ برادران کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد خواجہ برادران کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کو نیب نے کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

Please follow and like us:

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *