Press "Enter" to skip to content

میرا امتحان شروع ہو چکا ہے، جس کا نتیجہ ریٹائرمنٹ پر نکلے گا: چیف جسٹس

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پیشہ ورانہ زندگی میں خلوص نیت سے کام کرنے کو اصل خدمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا امتحان شروع ہوچکا ہے، جس کا نتیجہ ان کی ریٹائرمنٹ پر نکلے گا۔

لاہور میں سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی کانووکیشن تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ ‘میں نے اپنی پوری زندگی انصاف کے حصول کے لیے کام کیا ہے، میری زندگی کا مقصد ہمیشہ اپنے پیشے سے مخلص رہنا ہے’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘پیشہ ورانہ زندگی میں خلوص نیت سے ذمہ داری نبھانا ہی اصل خدمت ہے، میرا امتحان شروع ہوچکا ہے، جس کا نتیجہ میری ریٹائرمنٹ پر نکلے گا’۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ‘زندگی بامقصد ہونی چاہیے، کیڑے مکوڑے کی طرح بےمقصد نہیں’۔

‘طب کا شعبہ سب سے زیادہ ذمہ دار’

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ‘ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق ہے اور طب کا شعبہ سب سے زیادہ ذمہ دار ہے، لہذا ڈاکٹر حضرات کو چاہیے کہ اپنے حلف کی صحیح پاسداری کریں’۔

ساتھ ہی چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ‘اسپتالوں کو چلانا میرا یا عدالتوں کا کام نہیں تھا لیکن وہاں پر غلطیاں ہو رہی تھیں، اداروں کی غلطیوں کا سدباب کرنا عدلیہ کی قانونی ذمہ داری ہے’۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ماضی کی یادوں کو کھنگالتے ہوئے بتایا کہ ‘میں 8 برس کی عمر میں اپنی والدہ کو تانگے پر بٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لےکر جاتا تھا اور کئی کئی گھنٹے تک ڈاکٹروں کے پاس جا کر بیٹھا رہتا تھا’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘والدہ نے مجھے اور میرے بھائی کو انسانیت کی خدمت کی نصیحت کی اور دعا کی اے اللہ! جو تکلیفیں تھیں تونے مجھے دے دیں، میری اولاد کو محفوظ رکھنا’۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ‘جو شخص کسی عذاب سے گزرتا ہے، اسے دوسرے کی تکلیفوں کا احساس ہوتا ہے، میں نے بھی والدہ کی نصیحت کو پلے سے باندھ کر اپنی زندگی کا مشن شروع کیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا میں جو کرنا چاہ رہا تھا، نہیں کرسکا لیکن پنجاب اور سندھ میں صحت کے شعبوں میں تبدیلیاں آئی ہیں’۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ‘نجی اسپتال تعلیم گاہیں نہیں، بزنس سینٹر بن چکے ہیں’، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ‘وہ تمام نجی اسپتالوں کی نہیں، مخصوص اداروں کی بات کر رہے ہیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘مجھے ملک کے ہر کالج، ہر اسپتال کے ساتھ محبت ہے، میری محبت یکطرفہ نہیں، دوطرفہ ہے’۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ انہوں نے نجی میڈیکل کالجوں کی لاکھوں روپے فیس میں سے 726 ملین روپے بچوں کو واپس دلوائے۔

اپنے خطاب کے دوران چیف جسٹس نے تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ‘کسی بھی قوم یا معاشرے کی ترقی وخوشحالی کے لیے تعلیم بنیادی درجہ رکھتی ہے اور میری ہمیشہ سےکوشش رہی کہ تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کروں’۔

 جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ‘میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا ہوں کہ ہمیں اپنے وسائل کو تعلیم پر لگانا چاہیے’۔

کانووکیشن سے خطاب کے دوران چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ‘ملک کی آبادی بڑھ رہی ہے اور وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں، آج پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک لاکھ، 21 ہزار روپے کا مقروض ہے’۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس نے گذشتہ ماہ مانچسٹر میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران آبادی پر کنٹرول کے لیے ‘2 بچے ہی اچھے’ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ‘میں اس کی شروعات اپنے گھر سے کروں گا اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کروں گا’۔

خطاب کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ‘کیا پانی کی کمیابی کے معاملے پر بات کرنا غلط ہے؟ کیا صاف پانی کے مسئلے پر ازخود نوٹس لینا میرے دائرہ اختیار میں نہیں آتا؟’

آخر میں چیف جسٹس نے کہا کہ ‘پانی سے لےکر ادویات کی حد تک ہمیں کوشش کرنا ہوگی کہ بہتری لائیں’۔

Please follow and like us:

Comments are closed.