Press "Enter" to skip to content

سی ای سی اجلاس: پی پی پی کا جے آئی ٹی رپورٹ پر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

نوڈیرو: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مرکزی مجلس عاملہ (سی ای سی) نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) رپورٹ کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی زیر صدارت لاڑکانہ میں ہوا۔

اجلاس میں سی ای سی کے ممبران کے علاوہ صنم بھٹو کی خصوصی طور پر شرکت کی۔

سی ای سی اجلاس میں جے آئی ٹے کی رپورٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر مشاورت  کی گئی، سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی بات کی گئی۔

اجلاس میں اراکین نے پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کو مسترد کرتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس میں شہید بینظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اجلاس میں جے آئی ٹی رپورٹ کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس پر قانونی چارہ جوئی کرنے اور حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں اور انتقامی کارروائیوں کیخلاف پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس کے بعد پی پی رہنما فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ایسے لگ رہا ہے جیسے معاملات صدارتی نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ازخود نوٹس پر قانون سازی اور صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کا  مطالبہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت اپوزیشن کیخلاف انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے اور کرپشن کے نام پر یکطرفہ کارروائیاں ہو رہی ہیں، مناسب وقت پر پارٹی کارکنوں کو ہدایات جاری کریں گے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ خطرناک نتائج آئے تو ذمہ دار حکومت ہوگی کیوں کہ 18 ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

پی پی رہنما شیری رحمان کا کہنا تھا کہ 4 ماہ حکومت کو ہوگئے ہیں لیکن کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکی، اپنی نااہلی چھپانے کیلئے احتساب کے نام پر انقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں جو ہے وہ سچ ہے، ہم اداروں سے لڑنے والے نہیں ان کے آئینی دائرے کی بات کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے جے آئی ٹی نے جعلی اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں اومنی گروپ اور آصف زرداری کو ذمہ دار قرار دیا تھا، جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے اومنی گروپ اور زرداری گروپ کی جائیداد کی خرید و فروخت اور ٹرانسفر پر پابندی عائد کردی۔

عدالت نے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو جے آئی ٹی رپورٹ کا جواب داخل کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے جبکہ مزید جعلی اکاؤنٹس بھی ہیں، جن کی تحقیقات ہونا باقی ہیں۔

 عدالت نے جے آئی ٹی کو مزید تحقیقات کے لیے دو ماہ مہلت دیتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ یہ قوم کا پیسہ ہے،کسی کو بھاگنے نہیں دیں گے۔ اس کیس کی اگلی سماعت اب 31 دسمبر کو ہوگی۔

Please follow and like us:

Comments are closed.