Press "Enter" to skip to content

سپریم کورٹ نے پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو دہشتگرد تنظیم قراردیدیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

15 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے تحریر کیا ہے جس کے مطابق آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس اور ایشین پارلیمنٹ اسمبلی کے فیصلوں کی روشنی میں تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ترکی بھی مذکورہ تنظیم کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے جب کہ پاکستان کے ترکی کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں اور پاکستان بین الاقوامی سفارتی معاہدوں پر عمل درآمد کا پابند ہے۔

فیصلے میں تحریر کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت فتح اللہ گولن اور دیگر تنظیموں کو بھی دہشت گرد قرار دے اور پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تمام اثاثے ترکی معارف فاؤنڈیشن کو منتقل کیے جائیں۔

فیصلے کے مطابق فاؤنڈیشن کے زیرانتظام 28 اسکولوں کا بندوبست ترکی اور پاکستان کے درمیان معاہدوں کی روشنی میں کیاجائے اور وزارت داخلہ پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا اندراج انسداد دہشت گری کے تحت کرے۔

فیصلے میں پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تمام اکاؤنٹس منجمند کرنے کا بھی حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ تمام اکاؤنٹس ترک معارف فاؤنڈیشن کومنتقل کرنے کا انتظام کرے اور ایس ای سی پی پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی رجسٹریشن منسوخ کرے۔

اعلیٰ عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے نام سے جاری این او سی پہلے ہی منسوخ ہوچکے ہیں۔

فیصلے کے مطابق کسی دہشت گرد تنظیم کا پاکستان میں کام نہ کرنا پاکستان کے مفاد میں ہے، پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن 1990 میں قائم ہوئی اور تنظیم کے 28 اسکول ترک حکومت کے تعاون سے چلتے رہے۔

فیصلے میں لکھا ہے کہ کیگ ایجوکیشنل کارپوریشن ترکی میں ناکام فوجی حکومت کے قیام کی کوشش میں ملوث تھی اور فتح اللہ تنظیم، پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی پیرنٹ آرگنائزیشن ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلامی سربراہی کانفرنس نے تاشقند میں 43 ویں اجلاس میں فتح اللہ تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے 13 دسمبر کو کیس کی سماعت کی تھی اور فیصلہ سنایا تھا۔

Please follow and like us:

Comments are closed.