Press "Enter" to skip to content

دین میں دوسری شادی کی اجازت ہے پھر آپ کی پہلی بیوی کو اعتراض کیوں؟ عامر لیاقت سے سوال

کراچی (11 دسمبر 2018ء) :معروف اینکر عامر لیاقت حسین گزشتہ کچھ دنوں سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں اور اسکی وجہ انکی دوسری شادی ہے۔ کچھ لوگوں کی جانب سے انکی دوسری شادی کو متنازعہ بنانے کی کوشش بھی کی گئی تاہم عامر لیاقت نے اس پر اپنے مخالفین کو منہ توڑ جواب دے ڈالا ہے اور وہ اپنی دوسری اہلیہ کے ساتھ بہت خوش ہیں۔دونوں نے ایک مارننگ شو میں شرکت کی جس میں عامر لیاقت حسین سے سوال پوچھا گیا کہ آپ خود ایک دینی اسکالر ہیں آپ نے نکاح بھی کیا اور پھر شادی بھی کی۔
اور اگر ہم آپ کی پہلی بیوی بشریٰ کی بات کریں تو ہم ان کو بھی ایک دینی عورت کے طور پر دیکھا ہے۔اور ان کو دیکھ کر لگتا ہے دین انہوں نے بھی پڑھا ہے اور ان کو بھی دین کا پتہ ہے۔اور یقینا آپ کے گھر میں بچوں کی تربیت بھی ایسی ہی ہو ئی ہو گی جس میں انہیں دین سکھایا گیا ہو گا۔

لیکن اگر آپ نے شادی کی تو پھر کوئی گناہ تو نہیں کیا پھر آپ کی پہلی بیوی نے اسے قبول کیوں نہیں کیا؟کیونکہ دین میں تو دوسری شادی کی اجازت ہے پھر بشری بھابھی نے آپ کی دوسری شادی کو قبول کیوں نہیں کیا تو عامر لیاقت نے اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے خود ہی جواب دے دیا اس بات کا ۔

عامر لیاقت نے کہا کہ انہوں نے دین نہیں پڑھا۔دین پڑھنا ایک بلکل مخلتف چیز ہے اور ڈگری حاصل کرنےکے لئے دین پڑھنا بلکل ایک الگ چیز ہے۔کچھ لوگ دنیا کو دکھانے کے لیے ،اپنے حلیے اور باتوں سے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بہت دینی ہیں۔عامر لیاقت نے کہا میں آپ کو کچھ لوگوں کی بات بتا رہا ہوں میں ان کی بات نہیں کر رہا۔عامر لیاقت نے کہا بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جو میرے بچوں نے کی ہیں اگر میں آپ کو بتاؤں تو وہ آپ کو مزید ہرٹ کریں گے۔
لیکن وہ چھوٹے بچے ہیں اور یہ ان باتوں کو درگزر کر دیتی ہیں۔عامر لیاقت نے مزید کہا کہ ٹوئیر پر بچے خود نہیں آتے۔بظاہر لگتا ہے کہ اس بات سے عامر لیاقت نے اپنی پہلی بیوی کی طرف اشارہ کیا ہے۔خیال رہے عامر لیاقت کی دوسری شادی کے بعد ان کی پہلی بیوی بشریٰ عامر اور بیٹی دعا عامر نے کچھ ایسے ٹوئیٹس کیے تھے جس سے واضح تھا کہ انہوں نے عامر لیاقت کی دوسری شادی کو قبول نہیں کیا۔

Please follow and like us:

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *