Press "Enter" to skip to content

افغانستان میں امن معاہدے کے بعد مخالفین کو عام معافی دی جائیگی: طالبان

کابل: افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغانستان کے شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان کی آمد کے بعد ملک میں امن واپس آئے گا اور مخالفین کو عام معافی دی جائے گی۔

غیرملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اگر افغانستان میں امن اور طالبان واپس آتے ہیں تو ان کی آمد 1996 کی طرح نہیں ہوگی۔

طالبان ترجمان نے کہا کہ ہم افغان عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان کی جانب سے انہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا، ہماری مخالفت صرف غیرملکی افواج کی وجہ سے ہے، ایک مرتبہ غیرملکی افواج کا انخلا اور امن معاہدے پر دستخط ہوجائیں پھر ملکی سطح پر لوگوں کو عام معافی دی جائے گی۔

ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ ہماری طرف سے کوئی بھی چاہے اس کا تعلق پولیس، فوج، حکومت یا کسی بھی شعبے سے ہو، اسے ہماری طرف سے انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

طالبان ترجمان کا بیان اس موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب افغان امن عمل کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور طالبان رہنماؤں کے درمیان حالیہ تین ماہ کے دوران مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب افغان ہیومن رائٹس کمیشن کے ترجمان بلال صدیقی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اب تک طالبان کا ذہن تبدیل نہیں ہوا، انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ انسانی حقوق کے احترام کے بغیر عالمی برادری انہیں تسلیم نہیں کرے گی۔

یاد رہے کہ امریکی فوج کی جانب سے 21 دسمبر کو افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا گیا تھا، اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ابتدائی طور پر تقریباً 7 ہزار فوجیوں کو واپس امریکا بلایا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شام اور افغانستان سے فوج کے انخلا کے بارے میں بیانات دے چکے ہیں، انہوں نے کرسمس کے موقع پر عراق کے اچانک دورے پر وہاں موجود امریکی فوجیوں سے ملاقات کی اور کہا کہ امریکا اب دنیا کے لیے مزید ‘پولیس مین’ نہیں بن سکتا۔

Please follow and like us:

Comments are closed.